اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ یمنی میڈیا میں سرگرم ’’امین الحاکم‘‘ نے یمن میں شیعہ سنی اتحاد کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: امت مسلمہ، ایک خدا، پیغمبر اور آسمانی کتاب پر ایمان رکھتی ہے اور جائز نہیں ہے کہ ایسی امت پاش پاش ہو جائے۔ امریکہ اور برطانیہ اسلامی مذاہب کے درمیان اختلاف پیدا کرنے والی سیاستوں کی ترویج کرتے ہیں۔
امین الحاکم نے ابنا کے نامہ نگار سے گفتگو میں کہا: پیغمبر اکرم کے زمانے میں یہودی قوم، امت اسلامی کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے کی کوشش کرتی تھی اور آج صیہونیست جو انہیں کی اولاد ہیں مسلمانوں کے درمیان اختلاف پیدا کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: ہم مسلمانوں کو قرآن کریم کے سائے میں امت واحدہ کی شکل میں رہنا چاہیے اور اپنے درمیان پائے جانے والے جزئی اختلافات کو فراموش کر دینا چاہیے تاکہ ہم فلسطین کے مسئلہ کو بآسانی حل کر سکیں۔
یمن کے اس سیاسی فعال نے اسلام کے چہرے کو عالمی استکبار کے ہاتھوں مسخ کئے جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اسلامی انقلاب کی کامیابی سے حقیقی اسلام دنیا میں پہچانا گیا اور اسی کے بعد سے عالمی استکبار القاعدہ اور داعش جیسے اسلام نما چہرے سامنے لا کر اسلام کے چہرے کو مسخ کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور حقیقی اسلام کو دنیا کے سامنے آنے کی راہ میں آڑے ہے۔
امین الحاکم نے کہا: القاعدہ کو بھی امریکہ اور برطانیہ نے جنم دیا، داعش کو بھی عالمی سامراج اور امریکہ نے وجود دیا تاکہ اندرونی طور پر اسلام پر ضرب لگائے یہ تکفیری گروہ ایسے حال میں مسلمانوں کے اندر وجود میں لائے گئے ہیں کہ اسلام امن و صلح کی دعوت دیتا ہے اور کبھی قتل و غارت کی تائید نہیں کرتا۔
انہوں نے یمن کے لوگوں کے درمیان پائے جانے والے اتحاد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: یمن کے تمام قبائل و فرقے منجملہ شیعہ و سنی سب امریکہ اور آل سعود کی جارحیت کے مقابلے میں یکجا اور متحد ہیں۔ اور یہی آپسی اتحاد ہے جس کی وجہ سے یمن دو سال سے جاری سعودی جارحیت اور عالمی خاموشی کے باوجود کامیاب اور سرخرو ہے۔
قابل ذکر ہے کہ اراک کی یونیورسٹی نے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی اور دیگر ثقافتی اداروں کے تعاون سے ’’امام خمینی اور رہبر انقلاب اسلامی کے افکار میں اسلامی مذاہب کی تقریب ‘‘ کے عنوان سے پہلی قومی کانفرنس کا انعقاد کیا ہے جس میں ملکی شخصیات کے علاوہ غیر ملکی دانشوروں میں بھی شرکت کی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲